سابق فوجی آمر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ:
ڈاکٹر قدیر کی ہدایت پر درآمد یا برآمد ہونے والے سامان کو کسٹم اور چیکنگ سے مستثنیٰ ہونے کے باعث کسی کو ہاتھ لگانے کی جرأت نہیں تھی۔ ایٹمی پھیلاؤ کے ذمہ دار صرف عبدالقدیر خاں ہیں۔ میرے دور میں انہیں صرف مطلع کر کے جانے کی مکمل اجازت تھی میں نے اس پر پابندی لگاکر انہیں غیر ملکیوں کے نرغے سے بچایا ہے۔ یہ دعویٰ سابق صدر پرویز مشرف نے نیویارک میں نمائندہ جنگ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ مشرف سے پوچھا گیا تھا کہ ایٹمی پھیلاؤ کے حوالے سے صرف آپ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کو صرف نشانہ کیوں بنایا جبکہ انھوں نے قوم کو ایٹمی قوت بنانے کا احسان کیا ہے؟

مشرف نے بڑے تلخ لہجے میں کہا: ڈاکٹر قدیر خاں صرف میٹالرجی کے ماہر ہیں اور یورنیم اننرچمنٹ کا کام ضرور کیا ہے مگر ملک کو ایٹمی بنانے میں دیگر سائنس دانوں کا کلیدی رول رہا ہے تاہم وہ قوم کے ہیرو تصور کئے جارہے ہیں۔ انھوں نے بے نظیر بھٹو کے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بے نظیر نے ان کے نام خط میں جن لوگوں کواپنے قتل کا ذمہ دار گردانا تھا وہ تین افراد پرویز الٰہی، اعجاز شاہ اور جنرل (ر) حمید گل کے نام تھے۔ مجھے معلوم ہے کہ بے نظیر کو قتل بیت اللہ محسود نے کرایا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ بیت اللہ محسود کے پیچھے کون اور کس کا ہاتھ تھا۔ انھوں نے لال مسجد کے واقعے میں چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت کو یکساں ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کا رول اس وقت کے وزیراعلیٰ کی ہدایات کے تحت تھا ۔ خود چوہدری شجاعت کو آپریشن کی رات معلوم تھا کہ لال مسجد میں صرف 125 کے قریب افراد اندر تھے باقی تمام عورتیں اور بچے وہاں سے نکل چکے تھے۔ انھوں نے کہا کہ لال مسجد کے واقعے کو سیاسی ہوا دی جارہی ہے اگر کسی کو شبہ ہے تو وہ ان قبروں میں دفن نعشوں کا معائنہ کروالے تاکہ پتہ چل جائے کہ کتنے مرد اور عورتیں اس میں شہید ہوئے ہیں۔ لال مسجد میں آپریشن چوہدری شجاعت کی تائید سے ہوا ۔ مشرف پرویز نے الزام لگایا کہ لال مسجد کے آپریشن کے آغاز میں جن پانچ فوجی افسروں کو لال مسجد سے فائرنگ کرکے نشانہ بنایا گیا اس کی ذمہ داری بھی چوہدری شجاعت پر اس لئے ہے کہ وہ مقررہ وقت پر لال مسجد سے باہر نہیں نکلے اور آپریشن شروع ہوگیا۔ انھوں نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ انھوں نے پاکستانی شہریوں کو امریکا کے حوالے کیا ہے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ میں نے آئی ایس آئی کے ایک کرنل کو گوانتا مو بے کا دورہ کرنے کو بھیجا تھا کہ معلوم کیا جائے کتنے پاکستانی وہاں قید ہیں۔ ہم نے غیر ملکیوں کو پہلے اس کے ملک کو پیشکش کی اور انکار پر امریکا کے حوالے کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110